جے پور،14؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سال2019میں ہونے والے عام انتخابات اور راجستھان میں اگلے سال راجستھان اسمبلی انتخابات سے پہلے ریاست کی دولوک سبھا اور ایک اسمبلی سیٹ کے لیے 29جنوری کوہونے والے ضمنی انتخابات میں حکمراں بی جے پی پارٹی اور کانگریس کامقابلہ اور ان کا امتحان ہوگا۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس تینوں ضمنی الیکشن جیتنے کے دعوے کر رہے ہیں لیکن دعووں کی اصلیت ایک فروری کو انتخابات کے نتائج سے پتہ چلے گا۔ یوں تو تینوں انتخابی حلقے میں انتخابی مہم کا گھمسان شروع ہو گیا ہے لیکن 16 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی کی باڈمیر میں پچپدرا میں ریفائنری منصوبے کے کام شروع کرنے کے بعد اس میں تیزی آئے گی۔ضمنی انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس میں زوردار مقابلہ ہونا طے ہے۔الور کو چھوڑ کرباقی دونوں مقامات پر آزاد امیدوار صرف امیدوار ہی ثابت ہوں گے۔ الور سے رام پال جاٹ انتخابی میدان نہیں چھوڑتے ہیں تو گھمسان ہونا طے ہے۔وزیر اعلی وسندھرا راجے نے تینوں سیٹوں پر بی جے پی کا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے انتخابات کے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی تینوں علاقوں کا دورہ کرکے کارکنان میں جوش بھرنے کی کوشش کی ہے۔ادھر کانگریس نے دھول پور کے ضمنی انتخاب میں ملی شکست سے سبق لیتے ہوئے امیدواروں کے اعلان میں الور پارلیمانی سیٹ سے سابق ایم پی ڈاکٹر کرن سنگھ یادو کو انتخابی میدان میں اتار کر سبقت ضرور لے لی تھی لیکن بعد میں دونوں حلقہ (اجمیر، ماڈلنگڈھ) میں وہ بی جے پی سے پچھڑ گئی۔بی جے پی کے ریاستی صدر اشوک پرنامی نے تینوں ضمنی انتخابات میں تاریخی فتح کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی وسندھرا راجے کے ذریعہ کیاگیا ترقی کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی تینوں سیٹیں بڑی اکثریت سے جیتے گی ساتھ ہی اگلے سال ہونے والے انتخابات میں بی جے پی دوبارہ حکومت بنائے گی۔دوسری طرف کانگریس کے ریاستی صدر سچن پائلٹ نے پرنامی کے دعووں کو کھوکھلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی عوام اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات بی جے پی حکومت کی الوداعی کرے گی اور اس کی الٹی گنتی اگلے دنوں ہونے والے ضمنی انتخابات سے شروع ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس یکجہتی سے الیکشن میں لگ گئی ہے اور تینوں ضمنی انتخابات جیتے گی۔
بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے جہاں تینوں ضمنی انتخابات میں شاندار کامیابی کے لئے خود اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت چالیس اسٹار تشہیر کاروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے وہیں کانگریس نے بھی اسٹارتشہیرکاروں کے نام کا اعلان کیا ہیک لیکن ان میں قومی صدر راہل گاندھی کا نام نہ ہونے سے لوگ تعجب میں ہیں۔سابق مرکزی وزیر پروفیسر ساور لال جاٹ، ایم پی چاند ناتھ سنگھ اور کیرتی کماری کی بیماری کی وجہ سے موت ہونے سے اجمیر اور الور لوک سبھا سیٹ کے لئے ماڈلگڈھ اسمبلی نشست کے لئے 29جنوری کو پولنگ ہوگی اور ایک فروری کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔الیکشن شیڈول کے مطابق تینوں سیٹوں کے لئے پرچہ نامزدگی کے بعد تحقیقات کا کام مکمل ہو چکا ہے۔15 جنوری تک نام واپس لینے کے بعد انتخابات کی تصویر سامنے آ جائے گی۔